عوام نامی اس بھیڑ کا خیال ہے کہ دو ملکوں کے درمیان معاہدہ کوئی سنجیدہ،، بھاری بھرکم،، مقدس سی دستاویز ہوتی ہے جس پر دستخط ہونے کے بعد فرشتے بھی گواہ بن جاتے ہیں کہ اب یہ رشتہ قیامت تک قائم رہے گا۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاہدے اس رشتے سے زیادہ مضبوط نہیں ہوتے جو کسی سیلز مین اور گاہک کے درمیان اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک قسطیں چل رہی ہوں۔ جس دن مفاد بدلا، اگلے دن معاہدہ بھی ردی کی ٹوکری میں،، اور دونوں فریق ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ہیں جیسے کبھی جانتے ہی نہ ہوں۔

اگر آپ کو میری بات میں مبالغہ آرائی لگتی ہے تو ٹیوڈر دور حکومت کی تاریخ الٹ کر دیکھ لیں خاص طور پر ہینری ہشتم کا دور۔ صاحب کی شہرت تو چھ شادیوں کی وجہ سے مشہور ہے مگر اصل تماشا ان شادیوں کے پیچھے چھپی سفارت کاری تھی۔ یہ شادیاں محبت کی داستانیں بھی تھیں اور ساتھ ساتھ معاہدوں کے دستخط بھی تھے جو محض کاغذ پر نہیں بلکہ گوشت پوست کی صورت میں لکھے گئے۔

اب اتنی تمہید کے بعد آ جائیے سولہویں صدی کے انگلستان سے سیدھا اکیسویں صدی کے مشرق وسطیٰ میں جہاں کہانی بھلے شادیوں کی نہیں مگر رشتہ داریوں کی اتنی ہی دلچسپ ہے۔ سات اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جس کی رو سے تینوں میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فرمایا کہ اس معاہدے نے تینوں ملکوں کے درمیان قربت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے اور یہ خطے کے لیے امن کا پیغام ہے۔ اب تک تو سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا معاہدوں کے اعلامیوں میں لکھا ہوتا ہے خوبصورت الفاظ،، مسکراتی تصویریں،، اور 'دائمی بھائی چارے' کے دعوے۔

مگر جیسا کہ ایسے رشتوں کا چلن ہوتا ہے خبر پھیلتے ہی رشتہ داروں کی قطار لگنی شروع ہو گئی۔ معاہدے پر دستخط کو ابھی مہینہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ 27 اگست کو کویت کے وزیر دفاع نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاکستان کے ساتھ ایک نئے دفاعی و فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔ اب سوال یہ اٹھا کہ کیا کویت بھی خاموشی سے مکہ خاندان کا حصہ بن گیا ہے؟ پاکستانی سکیورٹی ماہر محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کر دیا اور واضح کیا کہ کویت والا معاہدہ محض فوجی تربیت اور صلاحیت بڑھانے تک محدود ہے اجتماعی دفاع جیسی کوئی شق اس میں شامل نہیں ہے۔ یعنی پاکستان کویت کی طرف سے میدان میں اترنے کا پابند نہیں۔

بہرحال ٹائمنگ نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ خلیج میں سکیورٹی کی نئی صف بندی ہو رہی ہے اور پاکستان اس میں ایک اہم کڑی کے طور پر ابھر رہا ہے اگرچہ امریکہ اب بھی خطے کا بنیادی سکیورٹی ستون بنا ہوا ہے۔

اصل دلچسپ کہانی مگر بنگلہ دیش کی طرف سے سامنے آئی۔ ڈھاکہ کی پارلیمنٹ میں جب یہ سوال اٹھا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت سے بنگلہ دیش کو کیا فائدہ ہوگا تو وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن کا جواب انتہائی جذباتی تھا موصوف فرماتے ہیں کہ یہ تو 'مسلم خاندان' کا اندرونی معاملہ ہے اور اس پر کسی اور کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے بھی اسے ملکی خودمختار فیصلہ قرار دے کر حکومت کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے گویا اس ایک نکتے پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی راضی بہ رضا نظر آئے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی صاف کہہ دیا کہ معاہدہ ایک ارتقا پذیر ڈھانچہ ہے شمولیت کی درخواست پر ریاض اور انقرہ سے مشاورت کے بعد غور ہوگا اور یہ کہ عملدرآمد کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اب اس سارے قصے میں ایک اور دلچسپ موڑ آ گیا ہے۔ معاہدے ابھی اخباروں کی سرخیوں سے اترے بھی نہیں تھے کہ اس کی پہلی کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہونے جا رہا ہے۔ یعنی معاملہ اب صرف کاغذ پر دستخط کرنے،، مسکرا کر تصویریں بنوانے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینے تک محدود نہیں رہا بلکہ صاحب اب بیٹھ کر یہ بھی طے کیا جائے گا کہ اس رشتے کو نبھانا کیسے ہے۔

ریاستیں عموماً معاہدے اس لیے نہیں کرتیں کہ انہیں ایک دوسرے کی شکل بہت پسند آ گئی ہے۔ انہیں خطرات نظر آتے ہیں،، مفادات دکھائی دیتے ہیں،، اپنے وسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور پھر وہ حساب لگاتی ہیں کہ اکیلے کھڑے رہنے میں زیادہ فائدہ ہے یا کسی دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں۔

اسی لیے کویت امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کیے بغیر پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش مستقبل کے امکانات کو دیکھ سکتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر سکتا ہے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھ سکتا ہے۔ دنیا کی سفارت کاری میں بسا اوقات ایک ہی وقت میں کئی دروازے کھلے رکھنا بدتمیزی نہیں بلکہ حکمت عملی ہوتی ہے۔

ہنری ہشتم کے زمانے میں بھی شاید یہی بات کچھ زیادہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں سفارتی حساب کتاب کبھی شہزادی کی شادی کے ساتھ بندھا ہوتا تھا اور کبھی اسی بادشاہ کے لیے چند برس بعد نیا اتحادی تلاش کرنے کی ضرورت پیدا ہو جاتی تھی۔ کل فرانس کے ساتھ ہاتھ ملایا، پرسوں کسی اور طاقت کے ساتھ صف بندی کر لی اور فرانس پر فوجیں دوڑا دیں۔ بادشاہ بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، صرف مفاد کا رخ بدلتا تھا۔

اصل امتحان اس وقت ہوگا جب کسی ایک گھر میں سچ مچ کی مشکل آن پڑے گی تب پتا چلے گا کہ کون کون واقعی 'خاندان' ثابت ہوتا ہے اور کون صرف مہمانوں کی فہرست میں نام لکھوا کر رخصت ہو جاتا ہے۔

تحریر: حامد لال

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر