ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور ہم اس جعلی مینڈیٹ کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عوامی جمہوریت کی قائل ہے، پہلے بھی ہم نے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا تھا، تو ملک ٹوٹ گیا تھا اور اس دفعہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کرتے۔

سربراہ جے یو ائی نے کہا کہ 2018 اور 2024 میں الیکشن چوری ہوئے ہیں اور ہم نے صوبے اور وفاق کی چوری کو ہرگز تسلیم نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 2018ء میں بھی مینڈیٹ چوری ہوا، اُس الیکشن کو کبھی نہیں مانا، ہم نے جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، ہماری سیاست گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست نہیں ہو گی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے ان کا راستہ روکا، کوئی مائی کا لعل اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کر سکتا۔ فلسطینیوں پر ظلم ڈھائے گئے، انہیں بھوکا مارا گیا، قائدِ اعظم نے اسرائیل کے بننے پر اسے ناجائز ریاست کہا تھا۔

ان کا کہنا تھا آج ڈیرہ اسماعیل خاں عالمی دنیا کی گزرگا ہےاور سی پیک کے راستے سے اب آپ کے لیے اسلام اباد کی منزل گاہ انتظار کر رہی ہے اور انشاءاللہ اسلام آباد ان جعفروں کا نہیں ہوگا اسلام آباد ان کارکنوں کا ہوگا اور وہاں اقتدار بھی آپ کا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی کے مطالبات فلسطین کی بجائے قاتلوں اور دہشتگردوں کی رہائی سے متعلق تھے، محسن نقوی

جربراہ جے یو آئی نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو شعور دو ، انہیں بیدار کرو اور ان کو بتاؤ کہ آپ کا مستقبل نا ٹرمپ کی خوشامد میں ہے اور نا ہی یہود کی سیاست میں بلکہ آپ کا مستقبل مستقبل مفتی محمود کے نظریے کو قائم رکھنے میں ہے۔

مفتی محمود کے عظیم کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں پارلیمنٹ میں لایا گیا اور قادیانی قیادت کو پارلیمنٹ کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیااور وہاں دلیل کا میدان سجاناکہ جذبات کااور وہاں کتاب کا میدان تھا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مفتی محمود 13 دن تک اپنی ٹیم کے ہمراہ قادیانیوں کا مقابلہ کیا اور عالم اسلام کو سرخرو کیا۔ مشرف جیسے آمر کے دور میں وہ چپ نہیں رہے تو اب انہیں کیسے خاموش رکھا جا سکتا ہے۔