نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ اگر حتمی فیصلہ کیا گیا تو دیگر مقامات کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا امکان رکھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے مزید تفصیلات کے منتظر ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کو امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی بات چیت کی تردید کی تھی۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے کشیدگی میں فوری کمی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت و سفارتکاری کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنے پر زور دیا۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔