شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ 18 اگست کو ادلب کے علاقے میں ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد شام اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست رابطے روک دیے گئے، موجودہ صورتحال میں دمشق اسرائیل پر اعتماد نہیں کرتا، تاہم شام اپنی سلامتی سے متعلق معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

اسعد الشیبانی کے مطابق دمشق اور تل ابیب کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے حوالے سے رواں سال مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اصولی اتفاق رائے پیدا ہوچکا تھا، تاہم اسرائیلی اقدامات کے باعث معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ دمشق نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ابو الظہور ایئربیس کو ترکیہ کے مستقل فوجی اڈے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، اس واقعے نے دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے جاری بداعتمادی کو مزید گہرا کردیا ہے

اسعد الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کے لیے فوری طور پر سب سے اہم مسئلہ اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور شامی سرزمین سے اسرائیلی فوجی انخلا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور جامع امن جیسے پیچیدہ اور دیرینہ معاملات پر بعد میں تفصیلی مذاکرات کیے جاسکتے ہیں، لیکن دمشق چاہتا ہے کہ پہلے شام کی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

شامی وزیر خارجہ کے مطابق مجوزہ سیکیورٹی معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے شام پر حملے روکنے، شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے اور سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ آنے والے شامی علاقوں سے انخلا سمیت متعدد امور شامل ہیں۔

معاہدے کے مجوزہ مسودے میں شام اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مختلف نوعیت کے سیکیورٹی زونز قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور رہی ہے۔ ان علاقوں میں بعض مقامات پر اقوام متحدہ کی موجودگی جبکہ دیگر علاقوں میں شامی سیکیورٹی فورسز کی محدود یا مرحلہ وار تعیناتی کی تجویز دی گئی ہے

اسعد الشیبانی کا کہنا تھا کہ دمشق کو محسوس ہوا ہے کہ اسرائیل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مطلوبہ سیاسی آمادگی کا مظاہرہ نہیں کررہا، شام ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو صرف کاغذی دستاویز نہ ہو بلکہ عملی طور پر شامی علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور شام کی خودمختاری کے احترام کو یقینی بنائے۔

شامی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ سفارتی رابطے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں، کیونکہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں براہِ راست شام کی سلامتی پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ تاہم ان کے بقول سفارتی رابطے اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں جب ان کے نتیجے میں عملی پیش رفت بھی سامنے آئے

اسعد الشیبانی نے بتایا کہ امریکا بھی شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں کررہا ہے اور اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔

دمشق کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی معاہدے میں شام کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ شام یہ بھی چاہتا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی کم ہو اور مستقبل میں اسرائیلی فضائی یا زمینی کارروائیوں کا راستہ روکا جاسکے۔

شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ دمشق اپنے علاقائی ہمسایوں کے ساتھ مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے اور ترکیہ کے ساتھ فوجی تربیت اور تعاون بھی جاری رکھا جائے گا۔

اس سے قبل 26 جولائی کو شامی صدر احمد الشرع بھی کہہ چکے ہیں کہ دمشق متعدد ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے لیے کام کررہا ہے۔ شامی قیادت کے مطابق اگر ایسا معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر اور جامع امن مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد اگرچہ شام اور اسرائیل کے براہِ راست رابطے فی الحال معطل ہیں، تاہم دمشق کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کیے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ شامی حکومت سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتی۔

شام کی موجودہ حکمت عملی میں فوری طور پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، شامی علاقوں سے اسرائیلی انخلا اور سرحدی سیکیورٹی کے لیے قابلِ عمل انتظامات کو ترجیح دی جارہی ہے، جبکہ گولان کی پہاڑیوں کی حیثیت اور جامع امن جیسے بڑے سیاسی معاملات کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے چھوڑنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اصل چیلنج اب دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور ایسے سیکیورٹی انتظامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا جن پر عملی طور پر عمل درآمد بھی ممکن ہو۔ اگر امریکا اور دیگر علاقائی فریق اسرائیل اور شام کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو حالیہ کشیدگی کے باوجود سیکیورٹی معاہدے کی کوششیں دوبارہ آگے بڑھ سکتی ہیں۔