سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملاقات میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، خصوصاً جاری فوجی کشیدگی کے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر ممکنہ اثرات اور اس حوالے سے مشترکہ کوششوں پر گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے موقع پر وزیر مملکت، کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العبییان اور جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان بھی موجود تھے، جبکہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں حالیہ پیش رفت پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور خطے میں امن کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر ایک روزہ سرکاری دورے پر جدہ پہنچے تھے۔ اس سے قبل پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ اس دورے کے دوران خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق شہباز شریف یہ دورہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر کر رہے ہیں۔
بدھ کو مشرق وسطیٰ میں ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر حملوں کے بعد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا تھا کہ پاکستان ہر صورت اور ہر حال میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ضرورت پڑنے پر ریاض کی مدد کے لیے آئے گا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سکیورٹی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی مدد کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں، پاکستان ضرورت پڑنے پر ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔







