جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 29 مئی کو امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسحاق ڈار کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی امریکی حکام کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں علاقائی امن، استحکام اور موجودہ چیلنجز کے سفارتی حل کی اہمیت پر توجہ مرکوز رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات کے دوران کسی قسم کی خفیہ یا انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام میں امریکہ کے مثبت کردار کا خیرمقدم کرتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کو ابراہم معاہدے میں شامل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ ابراہم معاہدے پر پاکستان کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

پاکستان ایک قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو اور جو 1967 سے قبل کی طے شدہ سرحدوں کے اندر قائم ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ تکنیکی فوجی معاہدے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے رپورٹس دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ بظاہر 27 مئی کو طے پایا، تاہم اس کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور اس مرحلے پر اس پر کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔