میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک قابل قبول معاہدہ چاہتا ہے، تاہم اگر پیش رفت نہ ہوئی تو حالات خراب رخ اختیار کرسکتے ہیں،ہمیں ایک ڈیل کرنی ہوگی، اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کے لیے صورتحال بہت سخت اور تکلیف دہ ہوگی۔”

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک ماہ کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امریکا چاہتا ہے کہ معاملہ بات چیت کے ذریعے حل ہو، تاہم واشنگٹن اپنے مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں، تاہم کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی ایک عرصے سے جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور مختلف ذرائع کے مطابق پس پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے خطے کی صورتحال کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔