رائٹرز سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز کو انتہائی باریک بینی سے پرکھا جائے گا، اور حتمی فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے سے متعلق کوئی بھی اقدام ایران کی عملی پیشکش دیکھنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ فی الحال قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں، کیونکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر کیا لے کر آتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس سارے عمل کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی پیشرفت کا انحصار ٹھوس اقدامات پر ہوگا، نہ کہ صرف بیانات پر۔

انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ایران کی جانب سے بات چیت میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے، جسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی حکام اس وقت ایرانی نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور یہ رابطے ایسے افراد سے ہو رہے ہیں جو فیصلہ سازی کی حقیقی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ کوششیں تیز ہو چکی ہیں اور مختلف ممالک اس معاملے میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کو اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ وفد پاکستان میں موجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کرے گا، جہاں دوطرفہ امور سمیت ایران-امریکا تعلقات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ اس ملاقات کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے  کہ اگر ایران واقعی قابلِ عمل اور قابلِ قبول تجاویز پیش کرتا ہے تو یہ پیشرفت نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لا سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم حتمی نتیجہ آنے والے دنوں میں ہونے والی سفارتی ملاقاتوں اور مذاکرات پر منحصر ہوگا۔