قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہوتی جا رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کو جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے، مگر اس کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کی مذمت نہیں کی گئی۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ایسے اہم معاملات پر پارلیمنٹ کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور خطے میں امن کے لیے واضح پالیسی سامنے لانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، ملک میں سیاسی اور معاشی چیلنجز بڑھ رہے ہیں لیکن پارلیمنٹ ان مسائل پر مؤثر انداز میں گفتگو نہیں کر رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دیگر معاشی معاملات پر اپوزیشن اپنی بات رکھنا چاہتی ہے، تاہم اکثر مواقع پر اجلاس ملتوی کر دیا جاتا ہے جس سے پارلیمانی عمل متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے عوام میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے دہشت گردی پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے: پاکستان
اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے اپوزیشن لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن ایران کے معاملے پر قرارداد لانا چاہتی ہے تو اسے باقاعدہ تحریک پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایوان میں اتفاق رائے پیدا ہو جائے تو ایسی قرارداد بآسانی منظور کی جا سکتی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں قراردادیں پیش کرنا اور ان پر اتفاق رائے پیدا کرنا اپوزیشن اور حکومت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر باضابطہ قرارداد پیش کرے تاکہ ایوان میں اس پر بحث ہو سکے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں ایران کے معاملے پر ہونے والی یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے اندر بھی سیاسی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور پارلیمنٹ میں اس موضوع پر مزید بحث متوقع ہے۔







