علی لاریجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
یہ بیان امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاریجانی نے رہبرِ ایران علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عمانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
علی لاریجانی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی امکانات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔







