سوشل اکاؤنٹ ایکس پر انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کو دھوکے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد “بورڈ آف پیس” درحقیقت “بورڈ آف وار” ثابت ہوا ہے۔

انہوں  نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے پورے مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور مسلم حکمرانوں کو آنکھیں کھولنی چاہئیں،گزشتہ 25 برسوں کے دوران کئی مستحکم مسلم ممالک کو امریکی سرپرستی میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہاں بدامنی اور افراتفری پھیلی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کھلے عام “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ امریکا کسی کا حقیقی دوست نہیں۔