ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ٹماٹر کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم سندھ کی فصل زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ کراچی کی منڈیوں میں سندھ سے نئی فصل آنا شروع ہو چکی ہے، اگرچہ زیادہ تر ٹماٹر ابھی مکمل طور پر پکے نہیں ہیں۔

کراچی میں ایرانی ٹماٹر 200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں، جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے جو گزشتہ ہفتے تک 560 روپے کلو تک خریدنے پر مجبور تھے۔

ملک میں سال کے مختلف ادوار میں ٹماٹر کی فصل مختلف صوبوں سے آتی ہے، مگر فصلوں کے درمیانی وقفوں میں اکثر قلت پیدا ہو جاتی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ایران یا افغانستان سے ٹماٹر درآمد کیے جاتے ہیں۔ اس وقت بھارت کے ساتھ تجارت بند اور افغان سرحد طویل عرصے سے بند رہنے کے باعث ایران ہی واحد ذریعہ ہے جو ملکی طلب پوری کر رہا ہے۔

تاجروں کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران ٹماٹر کی فراہمی میں کمی کا امکان ہے۔ راوی سبزی منڈی لاہور کے سید خالق شاہ کے مطابق سندھ کے بعض علاقوں سے نئی فصل کی آمد شروع ہوگئی ہے اور نومبر سے فروری تک سپلائی مزید بہتر ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی فصل عام طور پر سال کے وسط میں منڈیوں میں آتی ہے لیکن حالیہ بارشوں اور سیلاب نے اسے شدید نقصان پہنچایا، سوات کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب میں روزانہ آنے والے 150 سے 200 ٹرکوں کی تعداد گھٹ کر 20 سے 30 رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق ایرانی ٹماٹر کے 8 سے 9 کلوگرام کے پیکٹ لاہور میں اب ایک ہزار سے 1500 روپے میں دستیاب ہیں جو پہلے 2500 سے 4000 روپے میں فروخت ہو رہے تھے۔ سوات کے 15 سے 16 کلوگرام کے پیکٹ کی قیمت بھی 2500 سے 4000 روپے تک آ گئی ہے جو پہلے 4500 سے 6000 روپے تھی۔

پنجاب میں اس وقت سوات اور ایران سے ٹماٹر پہنچ رہے ہیں، روزانہ 70 سے 90 ٹرک ایران سے آتے ہیں جنہیں پہنچنے میں 5 سے 6 دن لگتے ہیں جبکہ افغانستان سے ٹماٹر دو دن میں آ جاتے ہیں۔

پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ڈیلرز، مرچنٹس، ایکسپورٹرز و امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب نے نہ صرف پنجاب بلکہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں بھی ٹماٹر کی فصل کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ افغانستان سے سپلائی سرحدی کشیدگی کے باعث رکی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بحران کی صورت میں پاکستان بھارت سے ٹماٹر درآمد کرتا تھا، لیکن 2016 میں بیماری پھیلنے کے بعد درآمدات بند ہو گئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت ڈالر کی بچت اور کم ٹرانسپورٹ لاگت کے پیش نظر ایران، افغانستان اور دیگر پڑوسی ممالک سے ٹماٹر درآمد کر کے قیمتوں کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔

وحید احمد کے مطابق حکومت بحران سے بچنے کے لیے ٹماٹر کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس عارضی طور پر ختم کر سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں پیاز کی قلت کے دوران کیا گیا تھا۔

کراچی سبزی منڈی کے ماشاخور ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد رفیق گجر کے مطابق ستمبر اور اکتوبر ہمیشہ نازک مہینے ہوتے ہیں کیونکہ اس دوران مقامی فصل دستیاب نہیں ہوتی اور طلب درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سیلاب سے نقصان ہوا ہے مگر سندھ کی فصل نسبتاً محفوظ رہی ہے کیونکہ وہاں پانی کی شدت کم تھی۔