ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے،  اس دورے کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

ایرانی ایوانِ صدر کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ حبیب اللہ عباسی نے بتایا ہے کہ صدر پزشکیان پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں ادا کیے گئے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہیں گے، پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے کے لیے قابلِ قدر کوششیں کی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی اسلام آباد پہنچے گا، جس میں کابینہ کے اہم ارکان، سینئر سفارت کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔ وفد دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی شراکت داری کے نئے امکانات پر بھی بات چیت کرے گا۔

دورے کے دوران صدر مسعود پزشکیان صدر آصف علی زرداری سے باضابطہ ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔ ملاقاتوں میں سرحدی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، توانائی کے منصوبے، علاقائی رابطہ کاری اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ سمیت متعدد موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں پارلیمانی روابط اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان کے منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا دوسرا دورۂ پاکستان ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور مسلسل سفارتی رابطوں کا عکاس ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کئی اہم فیصلے اور مفاہمتی اقدامات بھی زیر غور آئیں گے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات نے بھی عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستان اور قطر کی معاونت سے ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات کے دوران لبنان کی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے رابطوں کا مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور قطر کی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمہ میں بڑی پیشرفت ہو گئی: عباس عراقچی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی نگرانی کے ادارے کے معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اعتماد سازی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے پہلے مرحلے کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان بات چیت مثبت ماحول میں ہوئی اور کئی اہم معاملات پر پیش رفت سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران حتمی معاہدے کے لیے فریم ورک تیار کیا جائے گا جبکہ تکنیکی اور سفارتی سطح پر رابطے بھی جاری رہیں گے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے مذاکراتی عمل میں تعاون پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران۔امریکا مذاکرات کے تناظر میں بھی اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔