نجی نشریاتی ادارے کے مطابق تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس اسٹیشن ٹنڈو غلام علی میں ایک وقوعے کے ایک دن بعد ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا بھی اظہار کیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس درخواستوں میں بخدمتِ جناب ایس ایچ او لکھنے کی روایت نوآبادیاتی سوچ کی عکاس ہے، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں۔ اب درخواستوں میں صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا اور غلامانہ زبان کے استعمال کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر درج کرانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، نہ کہ شکایت کنندہ۔ عدالت نے وضاحت کی کہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود رہے گی۔
اسی طرح پولیس کارروائی میں ’فریادی‘ کا لفظ بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اصطلاح رحم مانگنے کا تاثر دیتی ہے، جب کہ شہری اپنا قانونی حق طلب کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور مین ہول سانحہ: مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں واپس تو نہیں مل سکتی ، شوہر
عدالتِ عظمیٰ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت وارننگ جاری کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں تاخیر پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور پولیس و شہری کے تعلق کی نئی تشریح ناگزیر ہے، جس کے لیے ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا رجحان سندھ میں نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو ہدایت کی ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران سنگین جرائم میں ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی اوسط تاخیر سے متعلق رپورٹ ایک ماہ کے اندر جمع کرائیں۔ یہ رپورٹ عدالت کے جائزے کے لیے کراچی برانچ رجسٹری کے انچارج افسر کو جمع کرائی جائے گی۔
فیصلے کے مطابق سندھ کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران ’فریادی‘ کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے۔ رجسٹرار آفس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس فیصلے کو رہنمائی اور عملدرآمد کے لیے پاکستان کی تمام ہائیکورٹس اور ضلعی عدالتوں میں سرکولیٹ کیا جائے۔







