وہ استنبول میں ترک پارلیمینٹیرینز کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ترک پارلیمینٹیرینز، حکمران جماعت اے کے پارٹی کے رہنماؤں اور انسان وقف کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا مستقبل مایوسی اور تقسیم کے بجائے علم اور عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والوں سے وابستہ ہے۔ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ بنیادی اصولوں پر مل کر کھڑا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی تباہی، بھوک اور جبری بے دخلی عالمی نظام کے اخلاقی دعوؤں کا امتحان ہے۔ شدید مصائب کے باوجود اہل غزہ کی ثابت قدمی انسانی وقار اور امید کی غیرمعمولی مثال ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں فلسطین آزاد ہو اور کشمیریوں کو انصاف ملے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانونی بائیکاٹ، انسانی امداد اور سفارتی حمایت کے ذریعے ان کا ساتھ دیا جائے۔ فلسطینی تعلیمی، طبی اور امدادی اداروں کی مدد بھی بلا تعطل جاری رہنی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل میڈیا اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے نوجوانوں کو تعلیم، تجارت، ٹیکنالوجی اور امدادی سرگرمیوں میں عملی تعاون بڑھانا چاہیے۔