اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے، جس کے جواب میں پاکستان کو خود کارروائی کرنا پڑی۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے دہشتگردانہ حملوں پر شدید تشویش رکھتا ہے۔ اسلام آباد کا خیال ہے کہ طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے، اسی لیے پاکستان نے جوابی کارروائی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے۔

مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کے روز افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے الزام اسلام آباد پر عائد کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کرنے والی بنیادی وجہ، یعنی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی، کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق سرحد پار دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ضروری اور مناسب اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے میں مسلسل ناکامی دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی کو افغان حکومت کی عدم کارروائی، تاخیر اور غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔

پاکستان طویل عرصے سے کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔