گوگل کے مطابق سیٹلائٹ میں نصب مصنوعی ذہانت کے اوپن ماڈل ’جیما‘ (Gemma) کو خلا میں موجودگی کے موضوع پر ہائیکو لکھنے کی ہدایت دی گئی۔ ماڈل نے نظم تیار کی، جسے سیٹلائٹ نے ناروے کے علاقے سوالبارڈ میں قائم زمینی مواصلاتی مرکز کے ذریعے زمین پر منتقل کیا۔ نظم میں زمین کو نیلے سیارے، ڈیٹا کے بہاؤ کو خاموش سلسلے اور ستاروں کی روشنی کو توانائی کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
اس تجربے کے دوران سیٹلائٹ سے مختصر مزاحیہ نظمیں اور اس کی تکنیکی کارکردگی سے متعلق معلومات بھی حاصل کی گئیں۔
گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس پیشرفت کو ’پروجیکٹ سن کیچر کے لیے ہیلو ورلڈ‘ کا سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے بعد اسے کامیابی سے کمانڈ ارسال کی گئی، اس میں نصب ٹی پی یو (TPU) فعال کیا گیا اور مصنوعی ذہانت سے نظم تیار کروا کر اس کا جواب زمین پر موصول کیا گیا۔
یہ تجرباتی سیٹلائٹ یکم اکتوبر کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ ریفریجریٹر کے حجم کے اس سیٹلائٹ میں چار ٹی پی یو اور شمسی توانائی کا نظام نصب ہے۔
گوگل کے مطابق منصوبے کے اگلے مرحلے میں خلا کے درجہ حرارت میں شدید تبدیلیوں اور تابکاری کے اثرات کے دوران ٹی پی یو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کمپنی نے 2027 میں دو باہم منسلک سیٹلائٹس کے ذریعے مزید تجربات کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے بڑے کمپیوٹنگ نظام زمین کے بجائے خلا میں قائم کیے جا سکتے ہیں۔







