سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد نئے سپریم لیڈر کی شناخت سے قطع نظر، اسرائیل ہر ممکنہ جانشین کو ہدف بنائے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر فوج کو مکمل تیار رہنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل یا خطرے سے نمٹا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت اسرائیل کے دیگر بین الاقوامی شراکت دار ایرانی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں میں شامل رہیں گے اور اسرائیل اپنی سکیورٹی کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر اقدام اٹھائے گا، ایران کے جوہری اور عسکری پروگرام پر نظر رکھنا اسرائیل کی اولین ترجیح ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی خطرہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی یہ دھمکی ایران میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی کو نئی جہت دے سکتی ہے۔ ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل جاری ہے، اور اس دوران اسرائیل کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے خطے میں سلامتی کی صورتحال پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اسپین تباہی کے خلاف کھڑا ہے: ہسپانوی وزیراعظم
دوسری جانب ایران نے بھی اپنی سکیورٹی اور جوابی کارروائی کے لیے الرٹ جاری کر رکھا ہے اور علاقائی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں مستقبل قریب میں فوجی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے اور بین الاقوامی برادری کی فوری ثالثی کی ضرورت ہے۔







