بجٹ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کر لیا جائے تو حکومتوں میں شامل تمام لوگ بے نقاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے تو ایسے عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ آتے ہی عوام میں یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ اس بار کون سا نیا ٹیکس لگایا جائے گا، جب کہ پاکستان میں تو ہر دو ماہ بعد نیا بجٹ آتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں رہنے والے لوگ اپنے کاروبار تو بڑھاتے ہیں لیکن ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں میں ملک میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پنجاب میں غربت کی شرح میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کے نام پر چلنے والے پروگراموں سے کرپشن کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 60 سے 70 فیصد ریونیو بالواسطہ ٹیکسوں سے جمع کیا جا رہا ہے، جبکہ 25 ہزار ملازمین پر مشتمل ایف بی آر مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پیٹرولیم لیوی 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے اور حکومت کو چار سے پانچ سو ارب روپے ایسے افراد سے حاصل ہوتے ہیں جن کی آمدن پر براہِ راست ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں تین ہزار ارب روپے جمع کیے، جو تقریباً آئی ایم ایف سے حاصل کیے گئے قرض کے برابر ہیں، جب کہ اب آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس سے استثنا دیا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ ٹیکس پالیسیوں نے متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بھی عوام سے مختلف ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں۔

تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر ایک کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کا صرف 1.7 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت آئی ٹی کے شعبے کے لیے جامع پالیسی دینے کے بجائے صرف لیپ ٹاپ بانٹنے کو کامیابی سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث ایک اہم موقع ملا ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے صنعتی اور معاشی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صنعت لگانے کے لیے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ پیداواری یونٹس اب بھی 59 سے 60 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سودی معیشت کے ذریعے ملک کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے شرح سود میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود دوبارہ ساڑھے 11 فیصد کر دی گئی ہے اور صرف ایک فیصد اضافے سے قومی قرضے میں تقریباً ساڑھے چار سو ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار کا ہدف 10 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا، تاہم پانچ لاکھ گانٹھیں بھی پیدا نہیں ہو سکیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایک مافیا کپاس کی فصل کو ختم کر کے گنے کی کاشت کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ شوگر ملز مافیا بھی انہی حکمران طبقات سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے جزوی نہیں بلکہ مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔