کوئٹہ میں 20ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ریاست پاکستان ہر فرد، ادارے اور سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے، اس لیے قومی سلامتی اور ریاستی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،  حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں یا انتظامی امور پر مختلف آراء اور تحفظات موجود ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست کے وجود اور استحکام پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کا تعلق مضبوط، تاریخی اور ناقابلِ تقسیم ہے، جسے کسی بھی سازش یا منفی پروپیگنڈے سے کمزور نہیں کیا جا سکتا،  پاکستان دشمن عناصر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم قوم اور ریاست ایسے تمام عزائم کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بعض شدت پسند گروہ تشدد اور اسلحے کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں،  اختلاف رائے جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن ہتھیار اٹھانا، دہشت گردی کو فروغ دینا یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونا کسی بھی معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو صرف معاشی پسماندگی یا محرومی سے جوڑنا درست تجزیہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک انتہا پسند سوچ بھی کارفرما ہے جو طاقت کے ذریعے اپنے نظریات نافذ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت ایسی سوچ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیں: ’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ تشدد، ریاست مخالف بیانیے اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والی آوازیں ملک میں نفرت، بداعتمادی اور انتشار پیدا کر رہی ہیں، لیکن حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں ترقی کے سفر کو ہر صورت جاری رکھے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور آئین، قانون اور قومی مفادات کے مطابق ریاست کی رٹ کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔