قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہے تو بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا ہوگا، کراچی میں موجود بلدیاتی ماڈل کی طرز پر لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام فعال ہے، جبکہ بعض سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی نظر آتی ہیں، مقامی حکومتوں کے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔

اپنے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے کراچی کے مسائل کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ بعض حلقے شہری مسائل کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ متعدد معاملات وفاقی اداروں اور اتحادی جماعتوں سے متعلق ہیں، عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت کو یہ احساس ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے اس کے مطالبات پورے نہیں ہو رہے تو محض سیاسی یقین دہانیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی سیاست میں واضح مؤقف اور دوٹوک رویہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کی صورت میں 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ عوام کو مقامی سطح پر نمائندگی اور اختیارات میسر آسکیں۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ملک کو معاشی اور سیاسی مشکلات سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں اور مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابینہ کے بعض ارکان کے بیانات اور طرزِ عمل حکومت کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کسی کا نام لیے بغیر چند وفاقی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسی ایک ہونی چاہیے، لیکن بعض اوقات مختلف وزرا کے متضاد بیانات سے عوام میں کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ پر مزید مؤثر کنٹرول قائم کرنا ہوگا کیونکہ جب ایک وزیر ایک مؤقف اختیار کرتا ہے اور دوسرا وزیر اس کے برعکس بات کرتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر حکومتی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بعض بیانات نے غیر ضروری تنازع کھڑا کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کابینہ میں ایسے افراد کیوں موجود ہیں جو حساس قومی معاملات پر غیر محتاط رائے دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض رہنماؤں کو اپنی بات واضح کرنے اور مؤقف میں لچک دکھانے کا موقع دیا گیا، لیکن جب اس کے باوجود سخت مؤقف برقرار رکھا جائے تو سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کو کشمیر کے مسئلے پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے، قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو کشمیر کاز یا قومی بیانیے کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی رہنماؤں، بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے حالیہ کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس سے قومی یکجہتی کو فروغ ملے اور مسئلے کا قابلِ قبول حل سامنے آسکے۔

مزید پڑھیں: ’مولانا کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا ہوں‘، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ

بلاول بھٹو زرداری نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سیاسی معاملات کو سنجیدگی سے نمٹایا جانا چاہیے،  ایسے دعوے اور بیانات جو سیاسی تنازعات کو جنم دیں، جمہوری عمل کے لیے سودمند نہیں ہوتے۔

بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ عاشورہ سے قبل بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ آئینی اور مالیاتی تقاضے بروقت پورے ہوسکیں،  پیپلز پارٹی کے ارکان بعض مذہبی مصروفیات کے باعث آئندہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے اہداف میں کامیاب ہوں کیونکہ حکومت کی کامیابی درحقیقت ملک اور عوام کی کامیابی ہے، موجودہ حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے باہمی تعاون اور مثبت سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔