یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ملکوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کا سالانہ موسم شروع ہو رہا ہے۔ اس سے سردیوں کے دوران شمالی انڈیا اور پاکستان میں فضائی آلودگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

دونوں ملکوں میں کسان عموماً سال میں دو مرتبہ فصلوں کی باقیات جلاتے ہیں، جن کے بڑے ادوار اپریل اور نومبر میں آتے ہیں۔ اس عمل سے پیدا ہونے والا دھواں، گردوغبار اور دیگر آلودہ مادے سردیوں میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس موسم میں ٹھنڈی ہوا آلودگی کو زمین کے قریب روک لیتی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق آگ کے واقعات کی نگرانی کا حالیہ ہفتہ 4 نومبر 2026 سے شروع ہوا۔ اس تجزیے میں رواں سال کی سرگرمیوں کا موازنہ 2012 سے 2025 تک کے تاریخی اعداد و شمار سے کیا گیا ہے۔

ڈیٹا میں دونوں ملکوں کے فعال آتش زدگی کے مقامات، جلنے والے رقبے، آگ سے خارج ہونے والی آلودگی اور آگ لگنے کے خطرات کی سطح کا جائزہ لیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی پیمائشوں میں یکم جنوری سے 5 نومبر 2026 کے دوران جنوبی ایشیا میں آگ کے مقامات اور متاثرہ رقبے کی جغرافیائی تقسیم بھی دکھائی گئی ہے۔

فضائی معیار کی نگرانی کیسے کی جا رہی ہے؟

کوپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس (CAMS) منتخب بڑے شہروں میں فضائی معیار کے بارے میں ہر گھنٹے کی بنیاد پر ماڈل کے ذریعے تخمینے فراہم کرتی ہے۔ ان میں دھویں، گردوغبار اور دیگر آلودگی کے باعث فضا میں چھائی دھند کا جائزہ بھی شامل ہے۔

تازہ ترین دستیاب ڈیٹا 5 نومبر کو عالمی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 37 منٹ پر اپ ڈیٹ کیا گیا، جس میں صبح 6 بجے کے ماڈل کی معلومات استعمال کی گئیں۔

ان تخمینوں میں ایروسول آپٹیکل ڈیپتھ (Aerosol Optical Depth) بھی شامل ہے۔ یہ پیمانہ بتاتا ہے کہ فضا میں موجود دھواں، گردوغبار اور آلودگی کے دیگر ذرات سورج کی روشنی کو فضا سے گزرنے میں کس حد تک روکتے ہیں۔

تاہم یہ اعداد و شمار زمینی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں سے حاصل شدہ براہِ راست پیمائش نہیں بلکہ ماڈل کی بنیاد پر تیار کیے گئے تخمینے ہیں۔

کوپرنیکس کے عالمی فضائی مرکبات کے پیش گوئی نظام میں تقریباً 0.4 ڈگری کی ریزولوشن استعمال ہوتی ہے، جو زمینی فاصلے کے لحاظ سے تقریباً 45 کلومیٹر کے برابر ہے۔

دہلی میں سردیوں کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سال بھر پابندیاں

دوسری جانب انڈیا کی حکومت نے دہلی میں سردیوں کے دوران فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

جولائی 2026 میں اعلان کردہ اقدامات میں گاڑیوں کی پارکنگ فیس دوگنی کرنا، سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار مختلف کرنا اور ضروری عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے علاوہ کھلے مقامات پر تعمیراتی کاموں پر پابندی شامل ہے۔

نئے ضوابط کے تحت یکم نومبر سے 31 جنوری تک سرکاری اور نجی دفاتر کے صرف 50 فیصد ملازمین کو دفتر میں کام کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ باقی ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ ان ضوابط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح مقررہ حد سے بڑھنے پر مرحلہ وار ایکشن پلان کے تحت پابندیاں عائد کی جاتی تھیں۔

تاہم نئی پالیسی کے تحت یکم نومبر سے 28 فروری تک یہ پابندیاں مسلسل نافذ رہیں گی، چاہے فضائی معیار کا انڈیکس (AQI) کچھ بھی ہو۔