یہ اقدام راولاکوٹ میں امن و امان قائم کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے حالیہ تصادم سے قبل اٹھایا گیا، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

ترجمان آئی جی کشمیر کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر سمیت چار پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان مبینہ جھڑپ ہوئی تھی، جس میں ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کی ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے 5 جون کو جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پسِ پردہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ریاست کے امن و امان اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے باعث نہ صرف امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے بلکہ معاشرے میں نفرت اور عدم تحفظ کے جذبات کو بھی فروغ مل رہا ہے، اسی بنا پر اس کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک پہلے بھی مکمل طور پر پرامن تھی اور اب بھی پرامن ہے اور انہوں نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے ریاست یا اس کے اداروں کی ساکھ اور سلامتی متاثر ہو۔

خیال رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کے حق میں 9 جون کو ریاست گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

احتجاجی کال کے باعث پورے خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جب کہ امن و امان کی ممکنہ خرابی کے پیش نظر آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے اضافی سیکیورٹی فورسز علاقے میں روانہ کر دی ہیں۔