محکمہ داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی تنظیم کو بھی فرسٹ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق تنظیم کے خلاف امن و امان اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں، جبکہ یہ تنظیم ریاست میں انتشار پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے تنظیم کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دی۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنظیم عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں ملوث رہی ہے، جبکہ اس پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور امن عامہ کو متاثر کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں۔
محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن میں تنظیم کے تمام متبادل نام بھی شامل کر دیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے ترجمان آزاد کشمیر حکومت نے واضح کیا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آزاد کشمیر حکومت کا مؤقف ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کے مترادف ہے۔
حکومت کے مطابق پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم شاہراہیں بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔







