اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ صورتحال دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سمیت بعض قوتیں اس کشیدگی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ معاملات کو سیاسی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک کے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کو پرامن طریقے سے ختم کریں اور تمام سیاسی اختلافات و شکایات کا حل آئینی، جمہوری اور مذاکراتی ذرائع سے تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن سے قبل از وقت جاری کیے گئے انتخابی شیڈول کو واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے شفاف اور قابل قبول انتخابی عمل ناگزیر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی حل کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور زیر التوا شکایات کے ازالے کے لیے ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن‘ کے قیام کی کوشش کرے گی تاکہ تمام فریقین کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریق متفق ہوں تو آزاد کشمیر حکومت احتجاج کرنے والی جماعتوں سے متعلق جاری نوٹیفکیشنز پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جنہوں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا، انہیں دوسروں کے اقدامات کے نتائج نہیں بھگتنا چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور اتفاقِ رائے میں ہے، کیونکہ پائیدار استحکام کا راستہ بھی یہی ہے۔

علاقائی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تناظر میں ’اسلام آباد معاہدے‘ پر دستخط کے امکانات ایک اہم اور تاریخی پیش رفت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی توجہ پاکستان کے کردار اور خطے میں اس کی سفارتی اہمیت پر مرکوز ہے، جو ملک کے لیے ایک مثبت موقع ثابت ہو سکتا ہے۔