اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق امراء عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود خان، سیکریٹری جنرل جہانگیر خان، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، نائب امراء نورالباری اور راجہ محمد فاضل سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کو ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں اور اسے حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حافظ نعیم الرحمن صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور دیگر قومی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی نے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جو فوری طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطے کرکے تجاویز مرتب کرے گی اور عملی اقدامات کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کشمیری عوام کی پاکستان سے وابستگی لازوال ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات، مفاہمت اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے آزاد کشمیر میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی انسانی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض داخلی راستوں کی بندش کے نتیجے میں عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ ادویات کی فراہمی بھی متاثر ہو چکی ہے۔
جماعت اسلامی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر آزاد کشمیر کے عوام تک اشیائے ضروریہ اور ادویات کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے اور موجودہ بحران کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔







