حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے تھے، جبکہ کمیٹی کا الزام ہے کہ حکومت نے ماضی میں ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کیا ہے؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین برسوں سے آزاد کشمیر میں مختلف عوامی اور معاشی مطالبات کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔
کمیٹی نے مہنگی بجلی، ٹیکسوں، آٹے کی قیمتوں اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف متعدد مظاہرے اور لانگ مارچ کیے۔ گزشتہ برس اس کے ایک ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
اس بحران کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کے بعد حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
موجودہ بحران کی وجہ کیا بنی؟
عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت نے معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔
اسی مؤقف کے تحت کمیٹی نے 9 جون کو تمام اضلاع سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے حکومت کی ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
اس کے بعد حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا، جبکہ پولیس کے مطابق کمیٹی سے وابستہ 72 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
احتجاج میں شدت کیسے آئی؟
کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب راولاکوٹ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شاہ زیب حبیب ہلاک جبکہ سردار عمر نذیر زخمی ہو گئے۔
اس واقعے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے طے شدہ احتجاج کا انتظار کیے بغیر پونچھ ڈویژن میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
راولاکوٹ میں شاہ زیب حبیب کی میت کے ساتھ احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
حکومت کیا کہہ رہی ہے؟
آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات مکمل یا جزوی طور پر تسلیم کیے تھے۔
ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، تاہم کمیٹی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں تھی، جس کے بعد پابندی ناگزیر ہو گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں عدم استحکام اور انتشار کا فائدہ انڈیا کو ہو سکتا ہے، اس لیے امن و امان کا قیام ضروری ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے کیا کہتے ہیں؟
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے تناظر میں اظہارِ رائے، پرامن احتجاج اور تنظیم سازی جیسے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انتخابات سے پہلے کشیدگی کیوں اہم ہے؟
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر الیکشن کمیشن 27 جولائی 2026 کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
اسی دوران سپریم کورٹ نے بھی مہاجرین کی نشستوں سے متعلق دائر ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم صرف قانون ساز اسمبلی ہی کر سکتی ہے اور انتخابات مقررہ وقت پر کرانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی کشیدگی، احتجاجی تحریک، گرفتاریاں اور سکیورٹی فورسز کی تعیناتی آئندہ چند ہفتوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کا اہم موضوع بن سکتی ہے۔
فی الحال ایک طرف حکومت امن و امان برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔






