انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت، علاج اور تمام حقوق ہماری اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ہفتہ وار 18 افراد سے ملاقات کی اجازت کا حکم موجود ہے، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ملاقات کرانا کوئی احسان نہیں بلکہ عمران خان کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد صرف بانی پی ٹی آئی کی قیدِ تنہائی کے خاتمے اور انہیں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ بیرسٹر گوہر صاحب کو کوئی کنفیوژن ہے۔ آزاد کشمیر میں الیکشن کا بائیکاٹ کس بنیاد پر کیا گیا، مجھے معلوم نہیں، تاہم اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ جنید اکبر کو تحریک اور تنظیم سازی سے متعلق پیغامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی نے جنید اکبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو کر خیبر پختونخوا میں تنظیم سازی پر توجہ دینے کی ہدایت کی تھی۔