لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بلاول خود بتا رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) صرف 17 سیٹیں جیتی ہے، کراچی میں قومی اسمبلی کی 7 سیٹیں پیپلز پارٹی کو کیسے ملیں؟ ایم کیو ایم نے ایک بھی پولنگ اسٹیشن نہیں جیتا، 15 سیٹیں انہیں دی گئیں۔ بلاول بھٹو اپنے فارم 45 لے آئیں، سب پتا چل جائے گا۔ کراچی میں بلاول نے وڈیرہ شاہی بنا رکھی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس کا ہدف پورا نہیں کرتا، عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، لیوی کی مد میں عام پاکستانیوں سے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ چھوٹی گاڑیاں اور موٹرسائیکل چلانے والوں سے بھی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے کسان پریشان ہوتے ہیں، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے زندگی کے ہر شعبے پر اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی سمیت تمام بڑے افسران قربانی دیں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ ارکان اسمبلی اپنی تنخواہیں بڑھانے کے لیے متحد ہو جاتے ہیں، مگر عوام کو ریلیف دینے کے لیے ان سیاستدانوں کے پاس کچھ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی ن لیگ کو دھمکی؛ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات چوری کیے تو آپ کی وفاقی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہو جائے گی
امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقے کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، مہنگے سرکاری اخراجات، بڑی گاڑیوں اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کر کے عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی گالی یا تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی، پرامن سیاسی جدوجہد ہی ملک میں بہتری اور عوامی مسائل کے حل کا راستہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور معاشی انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور عوام کے حقوق کی آواز ہر فورم پر اٹھائی جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ 7 اگست پرامن سیاسی مزاحمت کے لیے اہم دن ہے، کراچی سے خیبر تک شاہراہوں پر عوام نظر آئیں گے۔ حکومت پرامن سیاسی جدوجہد کو روکنے کی کوشش نہ کرے۔






