کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، جب کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آخر یہ تنازع کیا ہے، لانگ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے اور آگے کیا ہوسکتا ہے؟
لانگ مارچ کیوں رکا ہوا ہے؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ سے مظفرآباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود مارچ شروع نہیں ہو سکا۔
کمیٹی کے رہنماؤں کے مطابق حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں اور آئندہ حکمت عملی انہی مذاکرات کے نتائج پر منحصر ہوگی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی کامیاب مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
جھڑپوں میں کیا ہوا؟
منگل کو راولاکوٹ اور سدھنوتی میں دو الگ الگ واقعات میں شدید تصادم ہوا۔ سرکاری حکام کے مطابق ایک مقام پر سکیورٹی قافلے پر پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں متعدد مظاہرین مارے گئے، جب کہ ایک پولیس اہلکار بھی جان سے گیا۔
راولاکوٹ میں ایک اور کارروائی کے دوران حکام کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا، جب کہ جوابی کارروائی میں ایک مظاہرہ کرنے والا بھی مارا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے بعد احتجاجی تحریک شروع ہونے سے اب تک مجموعی طور پر 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے الزامات مسترد کیے ہیں، جب کہ پاکستان میٹرز آزادانہ ذرائع سے ان متضاد دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟
اس احتجاج کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی کی وہ 12 مخصوص نشستیں ہیں جو 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کی سیاست پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ترقیاتی وسائل بھی ریاست سے باہر منتقل ہوتے ہیں۔
کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے اور ترقیاتی وسائل صرف مقامی عوام پر خرچ کیے جائیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات
کمیٹی نے مجموعی طور پر 38 نکاتی مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں نمایاں مطالبات مہاجرینِ کشمیر کی مخصوص اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، وزرا، مشیروں اور سیاسی مراعات میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور احتجاجی کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لینا شامل ہیں۔
ان کے علاوہ رینجرز کی تعیناتی ختم کرنا، مفت اور معیاری تعلیم و صحت کی سہولیات، نوجوانوں کے لیے روزگار، بلاسود قرضے اور بے روزگاری الاؤنس، قدرتی وسائل پر مقامی اختیار، منگلا ڈیم سے متعلق بقایا معاوضوں کی ادائیگی، کرپشن، سفارشی کلچر اور غیرضروری سیاسی تقرریوں کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
حکومت اور سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن نہیں رہا بلکہ بعض مقامات پر مسلح افراد نے فائرنگ اور دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا۔
پولیس کے مطابق ریاستی شاہراہیں بند کرنا، عوامی زندگی مفلوج کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں، اسی لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
آئی جی کشمیر پولیس نے بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو پرامن احتجاجی گروہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر مسلح کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
لاکھوں پُرامن کشمیری عوام لانگ مارچ کے لیے کرفیو توڑتے ہوے نکل آئے 💪
— Dr Umair (@HumanitycomseF) July 15, 2026
بہادر قومیں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں غلام پٹواری شودر 🤣🤦
دیکھو کشمیریوں کا جنون سیکڑوں شہادتوں ہزاروں گمشدگیوں کے باوجود کشمیری عوام پر آمن لانگ مارچ کے لئے پہنچ گئے #مولانا_کی_للکار pic.twitter.com/AxACWD2KIZ
موجودہ صورتحال کیا ہے؟
مظفرآباد میں کاروبار اور معمولات زندگی بڑی حد تک معمول پر ہیں، تاہم شہر میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے۔
راولاکوٹ اور دیگر حساس علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز پر جزوی پابندیاں برقرار ہیں، جب کہ حکام کے مطابق تقریباً چار ہزار سکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو لانگ مارچ ملتوی یا ختم بھی ہوسکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مظاہرین دوبارہ مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے مزید تصادم کا خدشہ موجود ہے۔
دوسری جانب 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات بھی متوقع ہیں، اس لیے حکومت کسی بھی بڑے احتجاج کو دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرے گی، جب کہ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے۔
آنے والے چند روز اس بحران کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی ہی یہ طے کرے گی کہ صورتحال سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھتی ہے یا مزید کشیدگی اختیار کرتی ہے۔







