نجی ٹی وی جینلز کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس کا آغاز کیا ہے اور اس کو پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔ کمیٹی نے احتجاج کے ساتھ ریلی نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بازار، ٹرانسپورٹ، کاروباری مراکز بند رہے جبکہ اسکول کھلے ہونے کے باوجود بیشتر کلاس رومز خالی رہے۔
مزید یہ کہ مظاہروں کے دوران مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا۔ مسلسل دوسرے روز موبائل فون، انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس معطل رہی، جس کے باعث شہریوں کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کا خاتمہ، حکومتی اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، بجلی اور آٹے کے نرخوں میں کمی، یکساں تعلیم، صاف پانی کی فراہمی، روزگار کی فراہمی، کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی اور انتظامی اصلاحات اور ہائیڈرل منصوبوں پر عملدرآمد جیسے مطالبات شامل ہیں۔
مزید براں چارٹر آف ڈیمانڈ میں یہ مطالبات بھی شامل ہیں کہ دوران تحریک درج مقدمات ختم کیے جائیں، آزاد کشمیر بینک کو شیڈول بینک کا درجہ دیا جائے، مقامی تاجروں کو تحفظ اور نان کسٹم گاڑیوں پر جرمانے ختم کیے جائیں۔
مظاہرین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو خط لکھ کر احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور مبینہ کریک ڈاؤن کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

حکام کے مطابق مواصلاتی خدمات معطل کرنے کا مقصد احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انٹرنیٹ اور فون سروس بند ہونے کے باعث آن لائن کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور بینکاری نظام متاثر ہوا ہے جبکہ اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 25 ستمبر کو ہونے والے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری اور امیر مقام نے کہا ہے کہ آٹے اور بجلی کے نرخوں سے متعلق مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں تاہم ایسے مطالبات جن کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، ان پر فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔
حکومت نے امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مظفرآباد سمیت دیگر اضلاع میں پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے تین ہزار سے زائد اہلکار پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔
واضع رہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا عمل شروع کر دیا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔ عوام ہڑتالوں سے پریشان ہو چکے ہیں اور معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔







