لاہور میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گرینڈ کشمیر امن جرگہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ اس مقصد کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان، عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود بھی شامل ہوں گے، جب کہ جرگہ کمیٹی میں سابق ججز، عسکری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی جلد راولاکوٹ کا دورہ کرکے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے براہ راست مذاکرات کرے گی تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے حکومت کو ہر صورت مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ 128 ارب روپے سے زائد خسارے کا شکار، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سنگین انکشافات

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مظاہرین کے بعض اعتراضات جائز ہیں، تاہم مہاجرین اور مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 12 نشستوں کے معاملے پر بات چیت ضرور ہوگی اور اس کا کوئی قابلِ عمل حل بھی نکال لیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضد اور انا کو ایک طرف رکھا جائے کیونکہ پاکستان مزید داخلی دشمنیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں مزید خون خرابہ نہیں دیکھنا چاہتی۔