اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیش کش کی تھی، جسے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اس معاملے میں کوئی سیاسی مقصد نہیں، بلکہ اس کا مقصد صرف پاکستان اور کشمیر کے مفادات کا تحفظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں مزید خون بہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ایسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہییں جن سے دشمن کو فائدہ پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے دشمن عناصر چاہتے ہیں کہ کشمیر میں بدامنی پیدا ہو اور اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کی فہرست جماعت اسلامی کے نمائندوں کے حوالے کی ہے، جب کہ جماعت اسلامی کی درخواست پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنا لانگ مارچ بھی مؤخر کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آزاد اور مقبوضہ کشمیر دونوں کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں اور کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سید علی گیلانی، یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہیں تو کشمیر کو پاکستان سے الگ تصور نہیں کر سکتے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنی سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد نہیں رہا اور انہیں یقین نہیں کہ موجودہ سیاسی قیادت ان کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات مفادات کی بنیاد پر ووٹ فروخت کیے جاتے ہیں، جس سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دروازے اور جامعات ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، کیونکہ کشمیری نوجوان پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کے ہر علاقے میں کشمیر کے شہداء کی قربانیوں کی یاد موجود ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اجازت مل گئی ہو تو وہ جماعت اسلامی سے ملاقات کر لیں، کیونکہ بامعنی مذاکرات ہی موجودہ بحران کا حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزیراعظم سے ملاقات کا موقع نہ ملے، لہٰذا حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی یاد دلایا کہ جماعت اسلامی کی ثالثی کی پیش کش پاکستان کے آئینی اور قومی فریم ورک کے اندر ہے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ وہاں متناسب نمائندگی کے نظام پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کی حقیقی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔







