درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے کی، جس میں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی جانب سے مدثر عمر ایڈووکیٹ اور بیرسٹر تیمور عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے مؤقف پیش کیا۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں خواتین کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور انہیں حراست سے ریلیف دیا جائے۔ تاہم عدالت نے اس مرحلے پر نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی درخواست منظور نہیں کی اور متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

یہ معاملہ پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی 30 روزہ نظر بندی سے متعلق ہے۔ دستیاب عدالتی و میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کو 20 ستمبر کے حکم کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جس میں انہیں امنِ عامہ اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کی بنیاد پر نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

نظر بندی کے احکامات کے خلاف دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف سامنے آیا کہ نظر بندی کے لیے مخصوص الزامات اور وجوہات واضح طور پر بیان نہیں کی گئیں اور عام فوجداری قانون کے تحت دستیاب متبادل اقدامات پر بھی غور نہیں کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی ایسے وقت میں ہوئی جب پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کی کال دی گئی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی سمیت دیگر سیاسی مطالبات کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا ہے۔

اس سے قبل عمران خان کی دوسری بہن علیمہ خان کو بھی لاہور میں گرفتار کرکے 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔ ان کی نظر بندی کے خلاف بھی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جہاں عدالت نے معاملے پر مزید دلائل طلب کیے ہیں۔

عظمیٰ خان اور نورین نیازی کے معاملے میں درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ نظر بندی کے احکامات جاری کرنے میں قانونی طریقہ کار کی مکمل پابندی نہیں کی گئی، جبکہ حکام کی جانب سے امنِ عامہ سے متعلق خدشات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان قانونی نکات پر فریقین کے جوابات آنے کے بعد عدالت مزید کارروائی کرے گی۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے فوری طور پر نظر بندی کے نوٹیفکیشن معطل نہ کیے جانے کے بعد فی الحال دونوں خواتین کے خلاف جاری حراستی احکامات برقرار ہیں۔ عدالت کی جانب سے طلب کیے گئے جوابات اور آئندہ سماعت میں پیش کیے جانے والے قانونی دلائل سے معاملے کی مزید سمت واضح ہوگی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، نظر بندیوں اور قانونی معاملات پر سیاسی و عدالتی سطح پر بحث جاری ہے۔ عدالت میں زیرِ سماعت معاملے میں حتمی قانونی حیثیت فریقین کے مؤقف اور آئندہ عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔