ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی نے ہفتہ وار بریفنگ میں سوال کے جواب میں کہا کہ تاریخی بابری مسجد کی مسماری پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے گہرے دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مذہبی ورثے اور مقدس مقامات کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے تمام واقعات کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات ناگزیر ہیں جو مسلم مذہبی علامات یا ورثے کو نقصان پہنچائیں۔

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ اقلیتوں کے تحفظ کے احساس کو مجروح کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد انڈین مسلمانوں میں پائے جانے والے محرومی اور ذہنی کرب کے احساسات آج بھی برقرار ہیں، جب کہ ریاستی سرپرستی کے حوصلے سے ہندو انتہا پسند تنظیمیں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو سماجی طور پر مزید الگ تھلگ کرنے کی مہم میں مصروف ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور عالمی برادری، متعلقہ اقوام متحدہ اداروں اور اثر و رسوخ رکھنے والی عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کریں اور ایسے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

پاکستان نے اس موقع پر اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

طاہر اندرا بی نے بابری مسجد کی مسماری کی سالگرہ نہ صرف ایک المناک واقعے کی یاد دہانی ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر مذہبی احترام، انصاف اور وقار کے اصولوں کے نئے عزم کا تقاضا بھی کرتی ہے۔

آخر میں پاکستان نے انڈین حکومت پر زور دیا کہ وہ رواداری، ہم آہنگی اور شمولیت کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور تمام مذہبی و ثقافتی برادریوں کو برابر کا شہری درجہ اور احترام فراہم کرے۔