سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج افغانستان کو اپنی مرکزی آپریشنل پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، افرادی قوت کی بھرتی، لاجسٹک سپورٹ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے امور انجام دیے جا رہے ہیں، خطرہ اب محض چند منتشر عناصر تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کو افغان سرزمین پر افرادی قوت، اسلحے اور محفوظ نقل و حرکت کی سہولت حاصل ہے، جسے وہاں موجود سازگار حالات مزید تقویت دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث شدت پسند عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔
سیکیورٹی رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ خوارجی دہشت گرد افغانستان میں اپنے خاندانوں کے ہمراہ کھلے عام مقیم ہیں، کمزور اور گمراہ نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے منظم تشدد کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں پاکستانی ریاست کے خلاف کھلی دشمنی کو ظاہر کرتی ہیں۔
ان کے مطابق افغانستان میں چھوڑا گیا جدید امریکی فوجی اسلحہ اور جنگی سازوسامان بھی دہشت گرد عناصر کے ہاتھ لگ چکا ہے، جو پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس جدید اسلحے کی دستیابی نے دہشت گردی کے خطرات کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ افغانستان میں ایک درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان کا دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننا علاقائی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ باجوڑ میں 14 خوارجی دہشت گردوں کی ہلاکت پاکستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح پیغام ہے۔ ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں تاکہ دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کی گنجائش باقی نہ رہنے دی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، عوام اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے خوارج کے ناسور کے خلاف پوری قوت سے ڈٹ کر کھڑا ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔







