ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران فخر زمان نے بارہا اپنے خلاف لگائے گئے بال ٹیمپرنگ کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ میچ کے دوران انہوں نے کسی بھی غیر قانونی اقدام میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم پی سی بی کی تحقیقاتی ٹیم نے میچ کے دوران گیند کے تبدیل ہونے کے حوالے سے تفصیلی رپورٹس تیار کی ہیں، جن میں لاہور قلندرز کے خلاف اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں امپائرز نے گیند کی شکل میں تبدیلی دیکھی، جس پر لاہور قلندرز کو پانچ رنز کی پنالٹی بھی دی گئی تھی۔ اس واقعے نے پی ایس ایل سیزن کے دوران فخر زمان کے کردار پر سوالات اٹھا دیے تھے اور ٹیمپرنگ کے الزامات سامنے آئے۔
پی سی بی کے حکام نے کہا ہے کہ بال ٹیمپرنگ کے کسی بھی کیس میں کھلاڑیوں کی ذمہ داری اور کھیل کی شفافیت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ اس لیے فخر زمان پر ممکنہ پابندی، کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہوگی کہ کھیل میں شفافیت اور اصولوں کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کا اطلاق آئندہ دو میچوں پر ہوگا، جس سے لاہور قلندرز کی پرفارمنس پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ فخر زمان نے ابھی تک اس فیصلے پر کسی عوامی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، لیکن توقع ہے کہ وہ بعد میں میڈیا سے گفتگو کریں گے۔
مزید پڑھیں: پی سی بی نے نسیم شاہ پر متنازع ٹوئٹ کرنے پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا
پی ایس ایل اور پی سی بی کے حکام نے شائقین کرکٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملات کی تفصیلات جاننے کے بعد رائے قائم کریں اور کھیل کے قوانین کے احترام کو یقینی بنائیں۔







