پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت کو بانی کے بیٹوں کی پاکستان آمد پر کوئی رکاوٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے اور حکومت ملاقات کے حوالے سے کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بانی کے بیٹوں کو دو سال قبل ہی پاکستان آ جانا چاہیے تھا، لیکن وہ نہیں آئے۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ بانی کے بیٹوں نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے پاکستان کا ویزا اپلائی کیا ہے، جب کہ پہلے بھی انہیں 24 گھنٹوں میں ویزا دینے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن اس دوران کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ والد سے ملاقات کے لیے نہ آنا ان کا ذاتی فیصلہ ہے، لیکن جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری سے متعلق اقدامات کرے گی۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ بانی کی بہنیں اور دیگر رہنما بانی سے ملاقات صرف سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے کرتے ہیں، چاہے وہ بیانیہ ملک مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی کے 525 ٹوئٹس پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو نہیں ہونی چاہیے اور پی ٹی آئی نے عدالت میں بھی وعدہ کیا تھا کہ ملاقات کے بعد سیاسی بیانیہ نہیں بنایا جائے گا۔ قوانین کے مطابق ملاقات کے بعد سیاسی بیان بازی کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جائے گی اور ہماری درخواست ہے کہ وہ عدالت سے رابطہ کریں۔






