جیل حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو جیل قواعد کے مطابق ملاقات کرائی جاتی ہے، دونوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہا ہے

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور 4 اپریل 2026 کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرچکے ہیں

اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں توہین عدالت کے معاملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، یہ معاملہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم بینچ پہلے ہی نمٹا چکا ہے۔

رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے اور عدالت میں سلمان اکرم راجا کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے تحت ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

جیل حکام کے مطابق عدالتی حکم کے باوجود جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو کی گئی، تاہم سماعت کے دوران اس معاملے پر کسی جانب سے اعتراض نہیں اٹھایا گیا

رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت بنام شیر افضل کیس میں جیل رولز کے رول 265 کو خلافِ قانون قرار دیا جاچکا ہے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ بعض ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی۔

عمران خان کی صحت کے حوالے سے جیل حکام نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ میڈیکل افسران روزانہ تین مرتبہ ان کے کھانے پینے اور طبی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری طبی ماہرین بھی بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرچکے ہیں اور ان تمام طبی معائنوں کا ریکارڈ جیل انتظامیہ کے پاس موجود ہے۔

جیل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج ماہر امراض چشم سے کرایا جاتا رہا ہے، جبکہ علاج کے بعد ان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً معمول پر آچکی ہے۔

رپورٹ کے ساتھ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک مختلف طبی ماہرین کی جانب سے کیے گئے 39 معائنے کی سمری بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اپنی رپورٹ میں ملاقاتوں، طبی سہولیات اور عدالتی احکامات سے متعلق مؤقف پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ معاملہ نمٹا دیا جائے۔

یوں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کی صحت، طبی معائنے، جیل قواعد اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق جیل انتظامیہ کا مؤقف بھی سامنے آگیا ہے۔