کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ عدالتی کارروائی کے دوران بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی بخاری پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کی نمائندگی بیرسٹر ظفر اللہ نے کی۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت میں موجود تھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عمران خان کے ایکس/ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی عائد کرنے کی درخواست پر حتمی دلائل مئی کے پہلے ہفتے میں طلب کر لیے#ShiftKhanToShifaInternational pic.twitter.com/tT0y7qycuG
— میں واپس آؤں گا ✌️💯 (@Q_804_B_3) February 24, 2026
سماعت کے آغاز پر علی بخاری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکیل سلمان اکرم راجا علالت کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا تاکہ جواب جمع کرانے سے قبل مؤکل سے مشاورت کی جا سکے، تاہم ملاقات نہ ہو سکی۔
دورانِ سماعت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے وکیل کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔ اس موقع پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ وہ دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور جمع کرائی گئی رپورٹ کی نقل دوسرے فریق کو بھی فراہم کی جائے۔
عدالت اور وکیل علی بخاری کے درمیان مکالمے میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان تحریک انصاف بطور جماعت اس کیس میں فریق ہے، اس لیے بانی چیئرمین سے ملاقات کے بغیر مؤثر جواب جمع کرانا ممکن نہیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آیا پی ٹی آئی کی جانب سے باضابطہ جواب داخل کیا جائے گا، جس پر علی بخاری نے کہا کہ ملاقات کے بعد ہی حتمی مؤقف طے کیا جا سکے گا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کو مکمل تیاری کے ساتھ حتمی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ نہ صرف بانی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں بلکہ سیاسی شخصیات کے آن لائن اظہار اور ریاستی اداروں کے اختیارات سے متعلق اہم نظیر قائم کر سکتا ہے۔







