اسلام آباد میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں حکومت کا مؤقف واضح ہے، ہر قیدی کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے، علاج اور ضرورت کے مطابق صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی جیل مینوئل کے تحت ان کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان سے متعلق فیصلہ سامنے آنے کے بعد حکومت اس پر نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی
ان کے مطابق نجی اسپتال میں علاج سے متعلق عدالتی حکم پر بھی حکومت نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ معاملہ قانونی نوعیت کا ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات پر قائم ہے کہ عمران خان سمیت ہر قیدی کو آئین اور قانون کے مطابق طبی سہولیات حاصل ہونی چاہئیں، تاہم نجی اسپتال میں منتقلی کے معاملے پر قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھے جائیں گے
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کسی بھی قیدی کی صحت کو سیاسی بحث کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ صحت سے متعلق تمام معاملات آئین، قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طے کیے جائیں
انہوں نے کہا کہ علاج کے معاملے میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے اور جیل میں موجود ہر قیدی کو مقررہ طریقہ کار کے تحت طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، عمران خان کو پہلے بھی علاج کی سہولتیں فراہم کی گئیں اور آئندہ بھی ضرورت کے مطابق طبی سہولت دستیاب رہے گی
عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن نے کبھی سیاسی مخالفین کی صحت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا، ماضی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے مسلم لیگ ن کی قیادت کی صحت کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا گیا
انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کی بیماری یا علاج کو سیاست کا حصہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہر قیدی کے حقوق آئین اور قانون میں واضح ہیں اور حکومت ان حقوق کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی این آر او سے جوڑنا درست نہیں
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ ہر قیدی کو علاج اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا اس کا حق ہے، تاہم ملاقاتوں اور دیگر معاملات کے لیے جیل مینوئل اور عدالتی احکامات پر عمل کرنا ضروری ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت کا پہلے دن سے مؤقف رہا ہے کہ ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری قانون کے مطابق ادا کرنی چاہیے
طلال چوہدری نے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق فیصلے جیل مینوئل اور عدالت کی ہدایات کے مطابق کیے جاتے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج، دھمکی یا سڑک بند کرنے سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ملاقات کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا
انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج تحریک انصاف انہی عدالتوں کے فیصلوں کو انصاف کی کرن قرار دے رہی ہے جن کے بارے میں ماضی میں اس جماعت کی جانب سے مختلف مواقع پر عدالتوں، ججز اور پارلیمنٹ سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا جاتا رہا
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں اس بات کی نشاندہی کی کہ ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صحت کے معاملے کو سیاسی ایجنڈا بنانے سے روکنے کے لیے ریلیف فراہم کرتا ہے، اسے این آر او قرار دینا درست نہیں
طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ صحت کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جائے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق طبی سہولت فراہم کی جائے
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ ماضی میں سیاسی مخالفین کی بیماریوں اور میڈیکل رپورٹس کو سیاسی بحث کا حصہ بنایا گیا
انہوں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ڈاکٹرز کو بھی میڈیکل رپورٹس کے معاملے پر دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا
طلال چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاسی مخالفین کی میڈیکل رپورٹس پر کبھی سیاست نہیں کی اور بیماری کو سیاسی کمزوری سمجھنا ان کی جماعت کی سیاست کا حصہ نہیں
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ 9 مئی، 26 نومبر اور اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے بعد اب پی ٹی آئی کی جانب سے ہمدردی کا کارڈ استعمال کیا جا رہا ہے
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف دعوے اور بے بنیاد پروپیگنڈا بھی کیا گیا، جس سے عوام میں تشویش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی
طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی کارکردگی بیان کرنے کے بجائے عوام کی توجہ دیگر معاملات کی







