ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق انہیں رات تقریباً 8 سے ساڑھے 8 بجے اڈیالہ جیل پہنچنے کے لیے فون کیا گیا، جس پر وہ ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ جیل پہنچیں۔ دونوں کو ڈی ایس پی کے کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں وہ عمران خان کی منتقلی کا انتظار کرتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ رات تقریباً 12 بج کر 40 منٹ پر ڈی ایس پی سبطین آئے اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اپنے ساتھ لے گئے۔ تقریباً 10 سے 15 منٹ بعد ایک خاتون اے ایس آئی انہیں بھی اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چھوٹی گاڑی میں بٹھا دیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق ایک گاڑی آگے اور ایک پیچھے تھی، جبکہ درمیان میں لینڈ کروزر موجود تھی۔ انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو کہاں لے جایا جا رہا ہے، اس لیے انہیں گمان تھا کہ انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

تاہم، ان کے بقول جب گاڑیاں ایک تاریک مقام پر پہنچیں تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے، جس پر بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ پمز پہنچنے پر انہوں نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کا حکم تو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق تھا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کا فالو اَپ اور چیک اَپ ہونا ہے، اسی لیے انہیں پمز لایا گیا ہے۔

ان کے مطابق پمز پہنچنے کے بعد انہیں تقریباً 15 منٹ تک گاڑی میں بٹھائے رکھا گیا، جب کہ ان کے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بعد ازاں موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں انہیں او پی ڈی کے راستے ایک دفتر لے جایا گیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے بقول بعد میں انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں عمران خان موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان بھی انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور کہا کہ وہ تقریباً 10 ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہے ہیں۔

ان کے مطابق انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ پمز میں فالو اَپ چیک اَپ کے بعد انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا جائے گا، جہاں ان کے مکمل طبی ٹیسٹ ہوں گے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ بعد ازاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا اور ان سے استعمال کیے جانے والے آئی ڈراپس کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے آئی ڈراپس کا نام یاد نہ ہونے کا بتایا، جس پر انہوں نے ڈاکٹروں سے پریسکرپشن کے بارے میں سوال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈاکٹر نے عمران خان کی ایک آنکھ کا فوری ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ظاہر کی، جب کہ عمران خان کا بلڈ پریشر بھی چیک کیا گیا اور بعد ازاں ان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا۔

دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، جہاں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ حکومت کے مطابق معائنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا گیا اور انہیں صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان نے دوران ملاقات قیدِ تنہائی، صحت سے متعلق شکایات اور مبینہ بدسلوکی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ وہ متعدد مرتبہ جیل میں اپنی طبیعت کے بارے میں ڈاکٹروں کو آگاہ کرچکے ہیں، تاہم ان کی شکایات پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ حکومتی مؤقف کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں پمز لے جایا گیا۔