انہوں نے اے آر وائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پہلی کوشش محسن نقوی اور علی امین گنڈا پور نے 26 نومبر کے احتجاج سے قبل اور بعد میں کی، جبکہ دوسری کوشش بیرون ملک سے آنے والے چند ایسے افراد نے کی جن کا بانی پی ٹی آئی سے قریبی تعلق تھا۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق ایک مرحلے پر بانی پی ٹی آئی اصولی طور پر آمادہ ہو گئے تھے، لیکن بعد ازاں اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے لچک درکار ہوتی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کا طرزِ عمل مفاہمت کے بجائے سخت مؤقف پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پیش کردہ شرائط کسی بھی فریق کے لیے قابل قبول نہیں، کیونکہ ان کے بقول مطالبہ یہ تھا کہ "آپ میری جگہ آ جائیں اور میں آپ کی جگہ آ جاتا ہوں"، جسے عملی سیاست میں ممکن نہیں سمجھا جا سکتا۔
قومی حکومت کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پیش رفت زیر غور نہیں، بلکہ یہ بات دراصل تحریک تحفظِ آئین کے مطالبات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ عسکری قیادت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اداروں کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور اگر سیاسی قوتیں باہمی مشاورت سے معاملات طے کر لیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی میں پس پردہ رابطوں کی کوششیں تو ہوئیں، لیکن تاحال کوئی قابلِ عمل فارمولہ سامنے نہیں آ سکا۔







