ذرائع کے مطابق نظرثانی درخواست کے ساتھ پیپر بکس مکمل نہ ہونے پر اعتراض عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد درخواست میں ضروری ترمیم اور اعتراضات دور کرکے اسے دوبارہ دائر کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے 18 اگست کا عبوری حکم واپس لینے اور چیف کمشنر کو نظرثانی کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم اختیار سماعت سے تجاوز کرتا ہے اور قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔
درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے، جب کہ دوسرے اسٹیشن کے ہسپتال منتقلی کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔
چیف کمشنر نے مؤقف اختیار کیا کہ 18 اگست کا عدالتی حکم ان کے آئینی اور قانونی اختیارات کو براہ راست متاثر کرتا ہے، حالانکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے تحت فریقین کو سماعت کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔
چیف کمشنر کی درخواست میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ عدالت نے ایک رپورٹ کی بنیاد پر صحت بگڑنے کا ابتدائی تاثر قائم کیا، تاہم رپورٹ میں صحت مزید خراب ہونے کی واضح نشاندہی موجود نہیں تھی۔
درخواست گزار کے مطابق طبی اور تکنیکی معاملات میں عدالت کو ماہرین کی رائے حاصل کرنی چاہیے تھی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے علاوہ ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو علاج میں شامل کرنے، اہل خانہ کو صحت سے آگاہ کرنے اور علاج کے دوران مناسب ملاقات کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی تھی۔
چیف کمشنر کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی چاروں استدعائیں منظور کرلیں، جس سے عبوری مرحلے پر ہی معاملہ طے ہوگیا اور حتمی فیصلے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
نظرثانی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے، 18 اگست کا عبوری حکم واپس لیا جائے اور اسے قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔







