نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے پروگرام  کیپٹل ٹالک  میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی احتجاجی سیاست کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

رانا ثنا اللہ نے سوال اٹھایا کہ 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی لیکن اس کے لیے کیا تیاری کی گئی تھی؟ جس نوعیت کے دھرنے دیے گئے، اس سے بہتر تھا کہ نہ دیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ بعض احتجاج اور دھرنے ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے یا تو پی ٹی آئی کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا پھر خود بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو ڈی چوک کے بجائے سنگجانی میں احتجاج کی پیشکش کی تھی تاکہ مذاکرات کا راستہ نکل سکے، لیکن تحریک انصاف یا شاید خود عمران خان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر محسن نقوی بھی براہِ راست رابطے میں تھے اور انہوں نے ڈی چوک نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے اس تجویز پر آمادہ ہوئے لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملاقاتوں کو سیاسی بیان بازی اور گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ایک دن بھی نہیں رہنا چاہتے اور وہاں ان کا دل نہیں لگ رہا۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی اہم فیصلوں میں بشریٰ بی بی کا کردار تھا اور اب بھی ان کے اثرات نمایاں ہیں۔

دوسری جانب عمیر نیازی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اپنی ذات کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں مانگ رہے اور ان کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، جہاں وہ قانونی عمل کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم چاہتا ہے کہ عمران خان سر جھکا لیں لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ کسی سیاستدان نے اتنی طویل مدت مسلسل جیل میں نہیں گزاری جتنی بانی پی ٹی آئی نے گزاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کسی  ڈیل  کے لیے تیار نہیں، رانا ثناء اللہ

عمیر نیازی نے یہ بھی واضح کیا کہ علیمہ خان کا پی ٹی آئی کی عملی سیاست میں کوئی کردار نہیں اور وہ صرف اپنے بھائی کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتی اور اپوزیشن بیانات کے بعد سیاسی ماحول بدستور کشیدہ ہے اور عمران خان کی جیل میں سہولیات، احتجاجی سیاست اور ممکنہ مذاکرات کا معاملہ ملکی سیاست میں مرکزی موضوع بنا ہوا ہے