میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا حالیہ طبی معائنہ معمول کی کارروائی کا حصہ تھا، جسے غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کا ابتدائی معائنہ کیا تھا، جس کے بعد احتیاطی طور پر مزید جانچ کے لیے پمز اسپتال لے جانے کی سفارش کی گئی۔
ان کے مطابق گزشتہ ہفتے رات کے وقت بانی پی ٹی آئی کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ تک ان کا معائنہ کیا گیا اور کسی پیچیدہ علاج یا طبی عمل کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ معائنے کے فوراً بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نہ صرف صحت مند ہیں بلکہ ان کی طبی حالت تسلی بخش ہے، اس لیے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معمول کے طبی معائنے کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں اپنے بھائی کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اہل خانہ کو علاج اور معائنے کے حوالے سے بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، جس پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس حوالے سے عطا تارڑ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبی اقدامات جیل قوانین اور ضابطوں کے مطابق کیے گئے اور کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی نہیں برتی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کیا جائے اور ذمہ دار ذرائع سے آنے والی معلومات پر ہی انحصار کیا جائے۔







