استنبول میں منعقدہ ٹی آر ٹی ورلڈ فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام قائم رکھنے کے لیے بنائے گئے عالمی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے۔ غزہ میں انسانی المیہ جاری ہے، فلسطینی شہری مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، لیکن عالمی ادارے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ترک صدر نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، فلسطینی عوام کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ عالمی برادری اس صورت حال کو روکنے کے لیے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کررہی۔
رجب طیب اردوان نے غزہ امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھی عالمی نظام کی ناکامی قرار دیا، ترکیہ نے اس معاہدے کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا تھا، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کی صورت حال مایوس کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کی جائے، لیکن اس اصول کو بھی نظرانداز کیا جارہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے سے نہ صرف تنازعات کے حل کی کوششیں متاثر ہوں گی بلکہ عالمی نظام کی بنیاد بھی کمزور ہوگی۔ ان کے بقول کسی بھی بحران کا حل اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عالمی قوانین کا یکساں اطلاق اور ذمہ دارانہ اقدامات ضروری ہیں۔
ترک صدر نے عالمی اداروں کے طرز عمل کا موازنہ ماضی کے بڑے انسانی المیوں سے کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری مظالم پر عالمی اداروں کی خاموشی انہیں روانڈا اور سربرینیتسا جیسے واقعات کی یاد دلاتی ہے، جہاں انسانی بحران کے دوران عالمی برادری مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی تھی۔
ایردوان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت متعدد سیاسی، انسانی اور سکیورٹی بحرانوں کا سامنا ہے، لیکن ان مسائل کا حل پرانے طریقہ کار کے ذریعے تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورت حال کے تقاضوں کے مطابق نئی سوچ، مؤثر حکمت عملی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ فورم 2026 کا موضوع ’مرکز کے بغیر ایک دنیا‘ رکھا گیا ہے۔ ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ فورم میں ہونے والی گفتگو عالمی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے بالخصوص ان خطوں کی صورت حال بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں عوام جنگ، تشدد اور انسانی بحرانوں سے متاثر ہیں۔







