پہلے دن کا آغاز نماز جمعہ اور خطبہ جمعہ سے ہوگا جو ممتاز علماء پیش کریں گے۔ اس کے بعد دوپہر سے مغرب تک مختلف نشستوں میں مذہبی، سماجی اور تنظیمی موضوعات پر گفتگو ہوگی۔ سہ پہر ساڑھے تین بجے ہونے والا افتتاحی سیشن تلاوت قرآن کریم اور نعت رسول سے شروع ہوگا جس کے بعد مرکزی قیادت اجتماع کی اغراض و مقاصد بیان کرے گی۔ اس نشست میں ملکی صورتحال پر ابتدائی گفتگو بھی متوقع ہے۔

شام ساڑھے پانچ بجے سید مودودی اور جماعت اسلامی کے موضوع پر خصوصی نشست رکھی گئی ہے۔ اس نشست میں جماعت اسلامی کی فکری اساس، نظریاتی بنیاد اور تحریک اسلامی کی جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔ مغرب کی نماز کے بعد دن کا سب سے اہم پروگرام تبدیلی نظام کا پہلا حصہ ہوگا جو ساڑھے سات بجے سے ساڑھے نو بجے تک جاری رہے گا۔ اس سیشن میں سیاست، عدلیہ، معیشت، صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں میں موجود بحرانوں اور ان کے اسلامی حل پر گفتگو ہوگی۔

دن کے اختتام پر شب ساڑھے دس بجے مشاعرہ ہوگا جس میں نامور شعراء اپنا کلام پیش کریں گے۔ مشاعرہ اجتماع کا روایتی حصہ ہوتا ہے جو شرکاء میں فکری تازگی اور ثقافتی رنگ بھرنے کا باعث بنتا ہے۔

اجتماع کا دوسرا دن بروز ہفتہ فجر سے پہلے نماز تہجد اور نماز فجر کے اجتماعات سے شروع ہوگا۔ اس کے بعد صبح ساڑھے نو بجے پہلا سیشن ہوگا جس میں تلاوت قرآن اور درس حدیث پیش کیا جائے گا۔ صبح کے سیشنز میں نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ، زراعت اور صحت کے شعبوں سے متعلق مسائل پر ماہرین اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

ساڑھے گیارہ بجے صدر جماعت اسلامی پاکستان اہم خطاب کریں گے جس میں وہ ملکی صورتحال کا تجزیہ اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ یہ خطاب اجتماع کے اہم ترین خطابات میں شمار ہوتا ہے۔

دوپہر بارہ بجے سے ڈھائی بجے تک ٹیکنالوجی، تعلیم اور جدید سائنسی شعبوں کے ماہرین اپنی گفتگو پیش کریں گے۔ اس نشست میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، انجینئرز اور محققین جدید دور کے چیلنجز پر روشنی ڈالیں گے اور اسلامی نقطہ نظر سے قابلِ عمل حل تجویز کریں گے۔

سہ پہر تین بجے خواتین کانفرنس ہوگی جس میں خواتین کی تعلیم، کردار اور سماجی ذمہ داریوں پر گفتگو ہوگی۔ اس نشست میں جماعت اسلامی کی مرکزی اور صوبائی خواتین قیادت خطاب کرے گی۔

شام پانچ بجے سے رات نو بجے عالمی سیشن رکھا گیا ہے جس میں بین الاقوامی امور، امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار پر گفتگو کی جائے گی۔ اس سیشن میں مختلف ممالک کے اسلامی اور سماجی رہنما بھی شرکت کریں گے۔ دن کا اختتام شب ساڑھے دس بجے نعتیہ محفل کے ساتھ ہوگا۔

اجتماع کا تیسرا اور آخری دن بروز اتوار نماز فجر اور درس قرآن سے شروع ہوگا۔ صبح نو بجے تلاوت قرآن اور درس حدیث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ساڑھے نو بجے سے گیارہ بجے تک مرکزی قیادت معاشی، سیاسی اور سماجی سمت کے تعین پر تفصیلی خطابات کرے گی جن میں قومی مسائل کا اسلامی حل پیش کیا جائے گا۔

گیارہ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اجتماع میں افطار فی سبیل اللہ کا خصوصی انتظام ہوگا جس میں ہزاروں شرکاء شریک ہوں گے۔ اس کے بعد بارہ بجے خصوصی لیکچر رکھا گیا ہے جس میں نوجوانوں اور کارکنان کے لیے تربیتی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

دوپہر ساڑھے بارہ بجے اختتامی سیشن ہوگا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان خطاب کریں گے۔ اپنے خطاب میں وہ اجتماع کی کامیابی، آئندہ حکمت عملی اور ملک میں اصلاحی جدوجہد کے اگلے مراحل کا اعلان کریں گے۔ اجتماع کا اختتام اجتماعی دعا کے ساتھ کیا جائے گا۔

یہ تین روزہ اجتماع ملک کے موجودہ حالات اور مستقبل کی سمت کے حوالے سے جماعت اسلامی کا جامع اور اہم ترین پروگرام سمجھا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق شرکاء کے لیے رہائش، طعام اور دیگر سہولیات کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔