ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے  کہا کہ یہ معاہدہ سول نیوکلیئر تعاون کے حوالے سے ایک اور ملک کو خصوصی استثنیٰ دینے کے مترادف ہے، جو عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 1974ء کے نیوکلیئر تجربے نے ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قیام کی بنیاد رکھی تھی تاکہ جوہری مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔

انہوں  نے نشاندہی کی کہ بھارت نے اب تک اپنی تمام سول نیوکلیئر تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں نہیں رکھا، بھارت کی کئی جوہری تنصیبات اب بھی عالمی معائنہ کاروں کی نگرانی سے باہر ہیں، جو عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بیرونی ذرائع سے ملنے والی یورینیم سپلائی خطے میں اسٹریٹجک عدم توازن کو مزید بڑھا سکتی ہے،اس طرح کے ذخائر کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر آفس اعتراضات، عدالت کی اہم ہدایت جاری

انہوں  نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر سول نیوکلیئر تعاون کو غیر امتیازی اور یکساں اصولوں کے تحت ہونا چاہیے،کسی ایک ملک کو خصوصی رعایت دینا نہ صرف عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ اس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ بھی تیز ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ذمہ دارانہ جوہری پالیسی کا حامی رہا ہے اور عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں اسٹریٹجک استحکام برقرار رکھنے کے لیے متوازن اور شفاف پالیسی اپنائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری توازن اور سلامتی کے معاملات اب بھی انتہائی حساس ہیں اور اس حوالے سے عالمی طاقتوں کے فیصلے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔