پولیس کے مطابق یہ واقعہ ضلع اکھرل کے گاؤں مولم میں پیش آیا، جہاں ہندو اکثریتی میتی اور عیسائی کوکی برادری کے درمیان اچانک فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ جھڑپ کے دوران شدید فائرنگ سے 3 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

حکام نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا ان کی برادری سے متعلق تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں، تاہم علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے،کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ منی پور گزشتہ تقریباً تین برس سے مسلسل نسلی کشیدگی کا شکار ہے، جہاں میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان زمین، روزگار اور سیاسی اثر و رسوخ کے تنازعات پر خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ان پرتشدد واقعات میں اب تک 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بھی تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے خطے میں خوف و ہراس کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مقامی سیاسی اور سماجی تقسیم نے حالات کو مزید خراب کیا ہے اور امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے بار بار امن بحالی کے دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال میں بہتری نظر نہیں آ رہی، اور منی پور میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔